explain-icon

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے فرض یا نفل روزے کی حالت میں بھول کر کچھ کھا یا پی لیا، وہ اپنا روزہ پورا کرے۔ اسے توڑ نہ دے۔ کیوں کہ اس نے جان بوجھ کر کھایا یا پیا نہيں ہے۔ بلکہ خود اللہ نے اسے کھلایا اور پلایا ہے۔

explain-icon

حدیث کے کچھ فوائد

  • جو شخص بھول کر کھا یا پی لے، تو اس کا روزہ درست ہے۔
  • بھول کر کھا یا پی لینے پر کوئی گناہ نہیں ہے، کیوں کہ اس میں اس کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
  • بندوں پر اللہ کے لطف و کرم، ان کے لیے اللہ کی جانب سے فراہم کردہ آسانی اور انھیں مشقت اور پریشانی سے بچانے کا بیان۔
  • روزہ توڑنے والی چیزوں کی وجہ سے کسی بھی روزے دار کا روزہ اسی وقت ٹوٹے گا، جب اس کے اندر تین شرطیں پائی جائيں: 1- اس نے روزہ توڑنے والا کام علم رکھنے کے باوجود کیا ہو۔ اگر علم نہ رکھتا ہو، تو روزہ نہيں ٹوٹے گا۔ 2- اس نے یاد رہتے ہوئے کیا ہو۔ اگر بھول کر کیا ہو، تو اس کا روزہ درست ہوگا اور اسے قضا بھی نہيں کرنی ہوگی۔ 3- اس نے روزہ توڑنے والا کام اپنے اختیار سے کیا ہو۔ اس پر کوئی زبردستی نہ ہوئی ہو۔
explain-icon

مزید ۔ ۔ ۔