اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ سب سے برا چور وہ ہے، جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہو۔ ایسا اس لیے کہ دوسرے کا مال چرانے سے ہو سکتا ہے کہ انسان کو دنیوی فائدہ ہو جائے، لیکن نماز میں چوری کرنے والا خود اپنے حق کی نیکی اور ثواب چراتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! نماز میں چـوری کرنے کا مطلب کیا ہے، تو آپ نے جواب دیا : اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان مکمل طور پر رکوع اور سجدہ نہ کرے۔ یعنی جلدی جلدی رکوع اور سجدہ کر لے اور مکمل طور پر ان کو ادا نہ کرے۔