اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم عید کے دن عید گاہ کی جانب نکلے۔ چوں کہ آپ نے عورتوں سے وعدہ کر رکھا تھا کہ انھیں الگ سے دین کی باتیں بتائيں گے، اس لیے اس دن وعدہ پورا کر دیا۔ اس درمیان آپ نے کہا: اے عورتو! تم صدقہ کیا کرو اور زیادہ سے زیادہ مغفرت طلب کیا کرو کہ یہ دونوں گناہوں کی معافی کے دو عظیم ترین اسباب ہیں۔ کیوں کہ میں نے اسرا کی رات جہنم کے اندر تمھاری تعداد زیادہ دیکھی۔ اتنا سننے کے بعد وہاں موجود ایک عقل وخرد کی مالک با وقار عورت نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جہنم کے اندر ہماری تعداد زیادہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا: اس کی کئی وجوہات ہیں: تم بہ کثرت لعن طعن اور گالی گلوج کرتی ہو اور شوہر کے حق کا انکار کرتی ہو۔ پھر آپ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم (عورتوں) سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقل مند، دور اندیش اور ضبط کے مالک شخص کی عقل کو ماؤف کر دینے والا نہيں دیکھا۔ اس عورت نے عرض کیا: ہماری عقل اور ہمارے دین کی کمی کہاں سے عیاں ہوتی ہے؟ آپ نے فرمایا: جہاں تک عقل کی کمی کی بات ہے، تو دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے۔ یہ عقل کی کمی ہوئی۔ جب کہ دین کی کمی یہ ہے کہ اس کے اعمال صالحہ نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ حیض کی وجہ سے وہ کئی دنوں تک نماز نہیں پڑھتی اور رمضان میں اس کے کئی روزے چھوٹ جاتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ یاد رہے کہ حیض کی وجہ سے نماز اور روزہ چھوڑنے کی بنا پر عورت کو برا بھلا نہیں کہا جائے گا اور اس کی پکڑ بھی نہیں ہوگی۔ کیوں کہ یہ فطری چیز ہے۔ بالکل ویسے ہی، جیسے انسان فطری طور پر مال کا گرویدہ، جلد باز اور نادان ہوا کرتا ہے... لیکن آپ نے اس کی تنبیہ فرمائی تاکہ عورتوں کے فتنے میں مبتلا ہونے سے ہوشیار رہا جائے۔