جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ تشریف لائے اور لوگوں نے آپ کو دیکھا، تو آپ کی طرف دوڑ پڑے۔ آپ کی طرف دوڑ کر جانے والوں میں عبداللہ بن سلام بھی شامل تھے۔ وہ یہودی تھے۔ آپ کو دیکھ کر انھوں نے پہچان لیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے۔ کیوں کہ اس سے نور، جمال اور سچی ہیبت آشکارا تھی۔ اس دوران انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے جو پہلی بات سنی، وہ یہ تھی کہ آپ نے لوگوں کو کچھ ایسے اعمال کی ترغیب دی، جو دخول جنت کا سبب ہیں۔ جیسے: 1- سلام عام کرنا اور بہت زیادہ سلام کرنا۔ جان پہچان والے کو بھی اور ان جان کو بھی۔ 2- کھانا کھلانا۔ شکل صدقہ کی ہو، ہدیہ کی ہو یا ضیافت کی ہو۔ 3- رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا۔ رشتہ داری والد کی جانب کی ہو یا والدہ کی جانب کی۔ 4- رات کے وقت، جب لوگ سو رہے ہوں، جاگ کر نفل نماز پڑھنا۔