اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب مسجد میں داخل ہوتے، تو کہتے: "میں پناہ لیتا ہوں عظیم اللہ کی۔" یعنی میں اللہ اور اس کی صفات کی پناہ لیتا ہوں۔ جود وعطا سے متصف اس کے چہرے کی" "اس کے غلبے کی" یعنی جس مخلوق پر چاہے اس پر اس کے غلبہ، قدرت اور قہر کی۔ "جو قدیم ہے"۔ یعنی ازلی و ابدی ہے۔ "دھتکارے ہوئے شیطان سے۔" یعنی جسے اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ہے۔ یعنی اے اللہ! مجھے اس کے وسوسے، برانگیختہ کرنے، سازشوں، نقصانات ، فریب کاریوں اور گمراہیوں سے محفوظ رکھ۔ کیوں کہ انسان کے گمراہ ہونے اور بھٹکنے وجہالت کے پیچھے اسی کا ہاتھ ہوا کرتا ہے۔ اس کے بعد عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بس اتنا ہی کہا ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ ہاں مگر اس حدیث کى تکمیل یہ ہے کہ مسجد میں داخل ہونے والا شخص یہ دعا پڑھ لیتا ہے، تو شیطان کہتا ہے: اس داخل ہونے والے شخص نے مجھ سے اپنی ذات کو دن بھر اور رات بھر کے لیے محفوظ کر لیا۔