explain-icon

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال قبل تمام مخلوقات کی تقدیریں، مثلا موت و حیات اور روزی وغیرہ کو تفصیل کے ساتھ لوح محفوظ میں تحریر کردی تھیں۔ یہ تمام باتیں اللہ عز وجل کی قضا و قدر کے مطابق واقع ہوکر رہیں گی۔ چناں چہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ اللہ تعالی کی قضا و قدر کے مطابق ہو رہا ہے۔ چنانچہ بندے کو جو کچھ حاصل ہوا وہ اس سے چوکنے والا نہیں تھا اور جو اس سے چوک گیا وہ اسے حاصل ہونے والا نہیں تھا۔

explain-icon

حدیث کے کچھ فوائد

  • قضا وقدر پر ایمان لانا واجب ہے۔
  • تقدیر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی تمام چیزوں سے واقف ہے، اس نے ان چیزوں کو لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے، دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اللہ کی مشیئت سے ہو رہا ہے اور وہی ان کو پیدا بھی کرتا ہے۔
  • اس بات پر ایمان کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پہلے ہی تقدیریں لکھی جا چکی ہیں، انسان کے اندر رضا اور تسلیم کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔
  • آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے قبل رحمن کا عرش پانی پر تھا۔