اس حدیث میں ایک مکاتب غلام کا ذکر ہے۔ مکاتب وہ شخص ہوتا ہے جس نے اپنے آقا سے کچھ قسط وار ادا کیے جانے والے مال کے عوض اپنی آزادی خریدنے کا معاہدہ کر لیا ہو۔ لیکن اس غلام کے پاس اپنے آقا کو قرض ادا کرنے کے لیے مال نہیں تھا چنانچہ اس نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف رجوع کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ قرض کی ادائیگی میں اس کی مدد کریں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک ربانی علاج کی طرف رہنمائی فرمائی جو ایک دعا تھی جسے نبی ﷺ نے انہیں سکھایا تھا کہ اگر وہ پورے اخلاص سے یہ دعا مانگے تو اس کی طرف سے اللہ اس کا قرض ادا کر دے گا اگرچہ وہ پہاڑ برابر ہی کیوں نہ ہو۔ علی رضی اللہ عنہ نے اس غلام سے فرمایا کہ یوں کہا کرو: ”اللَّهُمَّ اكْفِني بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِواكَ“ اے اللہ! جن اشیاء کو تو نے حرام کیا ان سے بچاتے ہوئے اپنی حلال کردہ اشیاء کو میرے لیے کافی کر دے اور اپنے فضل سے مجھے اپنے سوا ہر کسی سے بے نیاز کردے۔ یعنی اے اللہ میرے لیے حلال روزی میں کفایت شعاری عطا فرما، جو مجھے حرام کی ضرورت سے بے نیاز کردے، اور میرے لیے اپنے فضل وکرم سے رزق مہیا فرما جو مجھے لوگوں سے مانگنے سے بے نیاز کردے۔