مفہوم حدیث: حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کچھ مال مانگا۔ آپ ﷺ نےا نھیں مال دے دیا۔ انھوں نے پھر مانگا، تو آپ ﷺ نے پھر دے دیا۔ پھر مانگا، تو آپ ﷺ نے انھیں پھر دے دیا اور اس کے ساتھ ہی آپ ﷺ نے فرمایاکہ اے حکیم: "یہ مال بہت سرسبز اور میٹھا ہے" ۔ یعنی یہ بہت محبوب و مرغوب ہے ۔ دل اسے پسند کرتے ہیں اور طبعی طور پر اس کی طمع رکھتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی، جیسے دل کو تروتازہ پھل، خوش نما منظر اور خوش ذائقہ مٹھائی پسند ہوتی ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اسے سخاوت دل کے ساتھ لیا“ یعنی جس نے مال اس طرح حاصل کیا کہ دل صاف ہو، اصرار، لالچ اور شدیدخواہش کی آمیزشنہ ہو۔ ”اس کے لیے اس میں برکت رکھ دی جاتی ہے“ یعنی اللہ تعالی اس میں برکت ڈال دیتے ہیں اوریوں وہ بڑھتا اور زیادہ ہوتا چلا جاتا ہے، اگرچہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، اورایسے شخص کو قناعت دے دی جاتی ہے۔ وہ دل کا تونگر ہو جاتا ہے۔ اس کا دل پر سکون رہتا ہے اور وہ اس مال کے ساتھ سعادت مندانہ زندگی گزارتا ہے۔ ”جو شخص دل کے لالچ کے ساتھ اسے لیتا ہے“ یعنی اس کے دل میں مال کی شدید خواہش بسی ہوتی ہے، وہ اسے حاصل کرنے کے درپے رہتا ہے اوراس کے اندر لالچ کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ ”تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی“۔ یعنی اللہ تعالی اس مال سے برکت نکال لیتےہیں اورایسے شخص کو قناعت سے محروم کردیتے ہیں اور یوں وہ ہمیشہ دل کا فقیر ہی رہتا ہے، چاہے اسے پوری دنیا کے خزانے ہی کیوں نہ دے دیے جائیں ۔ مسلم شریف میں اسی معنی کی ایک اور حدیث بھی ہے، جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو فقط خازن ہوں۔ جسے میں خوش دلی سے دیتا ہوں، اس کے لیے اس میں برکت رکھ دی جاتی ہے اور جو شخص اسے مانگ کر اور لالچ کے ساتھ مجھ سے لیتا ہے، وہ اس شخص کی مانند ہوتا ہے، جو کھاتا تو ہے، لیکن سیر نہیں ہوتا“۔ ”وہ اس شخص کی مانند ہوتا ہے، جو کھاتا تو ہے، لیکن سیر نہیں ہوتا“ یعنی اس حریص شخص کی مانند ہوتا ہے، جو جتنا بھی کھائے اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔ جب میلان نفس کے ساتھ لینے کا یہ حال ہے، تو اس شخص کا کیا حال ہوگا، جو مانگ مانگ کر لیتا ہے۔ اس کا حال تو اس سے بہت ہی گیا گزرا ہوگا۔ اسی لیے نبی ﷺ نے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا:”اس مال میں سے اگر کچھ تمھارے پاس بغیر کسی نفسی میلان اور بن مانگے آجائے، تو اسے لے لو اور جو نہ آئے، اس کے پیچھے اپنے دل کو نہ لگاؤ“ یعنی جس ملنے والے مال میں تمھارے نفس کا میلان ہو اور اس میں رغبت و اشتیاق ہو، اسے مت لو اور اسی طرح جو مانگنے پر آئے، اسے بھی مت لو۔ ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ اسے بہتر ہے“ یعنی نہ مانگنے والا ہاتھ مانگنے والے ہاتھ سے بہترہے ۔ کیوںکہ اس نے اپنے آپ کو مانگنے کی ذلت سے بچا لیا، اس ہاتھ کے برعکس جس نے اپنے آپ کو ذلت میں ڈال کر اپنی قدروعزت میں خود ہی کمی کی۔ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اس ذات کی قسم اٹھائی، جس نے نبی ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، اس بات پر کہ وہ آپ ﷺ کے بعد کسی سے کچھ نہیں مانگیں گے ۔انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! جس ذات نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، اس کی قسم! میں آپ کے بعد کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا، یہاں تک کہ دنیا چھوڑ جاؤں۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی، تو وہ انھیں کچھ دینا چاہتے، لیکن وہ اسے قبول نہیں کرتے تھے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد جب عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی تو انھوں نے آپ کو بلوایا، تاکہ انھیں کچھ دے سکیں، لیکن انھوں نے لینے سے انکار کردیا ۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو گواہ بناتے ہوئے کہا: گواہ رہو کہ میں انھیں مسلمانوں کے بیت المال سے دینا چاہتا ہوں، لیکن وہ قبول نہیں کرتے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا اس لیے کہا کہ روزقیامت اللہ کے سامنے ان کی عمر رضی اللہ عنہ پر کوئی حجت باقی نہ رہے اور وہ لوگوں کے سامنے اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوجائیں۔ تاہم پھر بھی حکیم رضی اللہ عنہ ان سے کچھ نہ لینے پر مصررہے، یہاں تک کہ وفات پاگئے۔