اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ صبح شام ان دعاؤں کو کبھی نہ چھوڑتے تھے : (اللهم إني أسألُكَ العافيةَ) اے اللہ! میں تجھ سے، برائیوں، بلاؤں، دنیوی مشکلات، شہوتوں اور دینی فتنوں سے تیری عافیت اور سلامتی کا سوالى ہوں۔ (في الدنيا والآخرة) دنیوی ہوں کہ اخروی، جلدى آنے والی ہوں یا تاخیر سے۔ (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي) اے اللہ! میں تجھ سے عفو و درگزر اور عیوب سے سلامتی کی دعا کرتا ہوں، خواہ عیوب دین سے متعلق ہوں، جیسے شرک، بدعت اور دیگر معاصی، یا دنیا سے متعلق ہوں‘ جیسے مصائب، اذیتيں اور شرور وفتن، یا اہل و عیال سے متعلق ہوں، جیسے بیوی بچوں اور رشتے داروں سے متعلق، یا پھر مال اور عمل سے سے متعلق ہوں۔ "اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي -أَو: عَوْرَاتِي- وَآمِنْ رَوْعَاتِي"۔ اے اللہ! میرے عیوب، کمیوں اور کوتاہیوں پر پردہ ڈال دے اور میرے گناہ مٹا دے۔ مجھے خوف و خطر سے محفوظ رکھ۔ "اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي"۔ اے اللہ میری حفاظت فرما اور تمام تکلیف دہ چیزوں اور بلاؤں و مصیبتوں کو مجھ سے دور رکھ۔ تمام جہات سے میری حفاظت فرما۔ کیوں کہ مصیبتیں اور آفتیں مذکورہ جہات ہی سے آتی ہيں۔ "وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي"۔ میں اس بات سے تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں کہ نیچے کى جانب سے اچانک میرا مؤاخذہ ہو جائے اورغفلت کی حالت میں ہلاک ہو جاؤں پھر زمین میں دھنسا دیا جاؤں۔