ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ کہتے تھے: ”اللهم لك أسلمت“ (اے اللہ !میں تیرے لیے فرماں بردار ہو گیا) یعنی ظاہری طور پر تیرا فرماں بردار، تیرے علاوہ کسی اور کا نہیں۔”وبك آمنت“ (اورتجھ پرایمان لایا) یعنی باطنی طور پر تصدیق کی۔ ”وعليك توكلت“ (اورتجھ پر بھروسہ کیا) یعنی اپنے تمام امور کی تدبیر تیرے سپرد کر دی اور میں اپنے کسی نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں۔”وإليك أنبت“ (تیری طرف رجوع کیا) یعنی میں نے نافرمانی سے اطاعت کی طرف اور غفلت سے ذکر کی طرف رجوع کرلیا۔ ”وبك“ یعنی تیری مدد کے ساتھ۔ ”خاصمت“ (مخاصمت کی) یعنی تیرے دشمنوں سے جنگ کی۔ ”اللهم إني أعوذ بعزتك“ (اے اللہ میں تیری عزت کی پناہ لیتا ہوں) یعنی تیرے غلبے کے ساتھ کیوں کہ عزت ساری کی ساری اللہ کے لیے ہے۔ ”لا إله إلا أنت“ (تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں) یعنی تیرے علاوہ معبود برحق کوئی نہیں اور نہ ہی کوئی ایسا ہے جس سے سوال کیا جائے اور تیرے علاوہ کسی کی پناہ بھی نہیں لی جا سکتی۔ ”أن تضلني“ (یہ کہ تو مجھے سیدھی راہ سے ہٹا دے) یعنی میں اس بات سے پناہ چاہتا ہوں کہ ہدایت کے بعد تو مجھے گمراہ کر دے جب کہ تو نے مجھے ظاہری و باطنی طور پر اپنے حکم و قضاء کی فرماں برداری اور اپنی جناب میں جھکنے، دشمن سے مخاصمت اور ہر حال میں اپنی عزت و نصرت کی التجاء کرنے کی توفیق بخشی۔ ”أنت الحي الذي لا يموت والجن والإنس يموتون“ تو ہی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے جس کو موت نہیں آ سکتی اور جن و انس سب مر جائیں گے۔