اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر اس شخص کے لیے بد دعا کی ہے، جو مسلمانوں کی کوئی ذمے داری ہاتھ میں لے، وہ ذمے داری چھوٹی ہو یا بڑی، عام ہو یا خاص، پھر لوگوں کے ساتھ نرمی بھرا سلوک کرنے کی بجائے ان کو مشقت میں ڈالے۔ اس طرح کے آدمی کے حق میں آپ نے بد دعا یہ کی ہے کہ اللہ اسے بھی مشقت میں ڈالے، تاکہ اسے اسی نوعیت کا بدلہ مل جائے، جس نوعیت کا اس کا عمل رہا ہے۔ جب کہ ذمے داری ملنے کے بعد لوگوں کے ساتھ نرمی بھرا سلوک کرنے والے اور ان کے ساتھ آسانی کرنے والے کے حق میں یہ دعا کی ہے کہ اللہ اس کے ساتھ نرمی بھرا سلوک کرے اور اس کا کام آسان کر دے۔