رسول اللہﷺ نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بحرین جزیہ لینے کے لیے بھیجا۔ جب وہ واپس مدینہ پہنچے اور انصار نے ان کے آنے کی خبر سنی تو سب نماز فجر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوگئے۔جب آپ ﷺ نے نماز پڑھنے کے بعد رخ پھیرا تو سب آپ کے سامنے آگئے اس پر آپ ﷺ مسکرا دیے کیونکہ وہ مال کی جستجو میں آئے تھے۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: لگتا ہے کہ تم نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ بحرین سے واپس آ گئے ہیں ؟ وہ کہنے لگے کہ: جی ہاں، اللہ کے رسول! ہم نے یہ سنا تھا یعنی اپنا حصہ لینے کے لئے ہم آئے ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں اس شے کی بشارت دی جو انہیں خوش کرنے والی تھی۔ آپ ﷺ نے انہیں یہ بتایا کہ آپ ﷺ کو ان کے بارے میں فقر کا اندیشہ نہیں ہے کیونکہ غریب شخص عام طور پر امیر شخص سے زیادہ حق کے قریب ہوتا ہے ۔ بلکہ اگر اندیشہ ہے تو اس بات کا کہ دنیا کے دروازے ان پر کھول دیے جائیں اور وہ اس کے حصول میں ایک دوسرے سے مقابلہ بازی شروع کردیں ۔ اس وقت انسان کو جو کچھ مل رہا ہوگا اسے وہ کافی نہیں سمجھے گا بلکہ وہ زیادہ سے زیادہ کی حرص رکھےگا اور اسے کوئی فکر نہیں ہوگی کہ اسے مال کس طریقے سے مل رہا ہے اور نہ ہی وہ حلال و حرام کی پرواہ کرے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرح کی مقابلہ آرائی مذموم ہے جو دنیا کی رغبت دلائے اور آخرت سے بے گانہ کردے اور اس میں پڑنے والا شخص اسی طرح ہلاکت کا شکار ہوجائے جیسے اس سے پہلے لوگ ہوئے تھے۔