ایک دن رسول اللہ ﷺ غزوۂ احد کے شہدا کی جانب ان کے حق میں دعا کے لیے نکلے۔ یہ واقعہ غزوہ احد کے آٹھ سال بعد کا ہے۔ پھر آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور لوگوں سے اس انداز میں خطاب فرمایا، جیسے ان سے وداعی و رخصتی خطاب فرما رہے ہوں اور اس بات کی بھی خبر دی کہ آپ ﷺ (دنیا ہی میں اس وقت) اپنے حوض (کوثر) کو دیکھ رہے ہیں اور بہت جلد اس حوض کے پاس ان سے قبل پہنچنے والے ہیں، اور یہ کہ آپ ﷺ ان کے گواہ ہوں گے، اور آپ ﷺ نے اپنی امت کو اس بات سے بھی مطلع فرمایا کہ اس امت کو بہت جلد زمین کے خزانوں کا مالک بنایا جائے گا۔ نیز آپ ﷺ نے اس بات سے بھی آگاہ فرما دیا کہ آپ ﷺ کو اپنی امت پر شرک کا خدشہ نہیں، لیکن کسی اور امر کا خوف لاحق ہے، جس کی طرف لوگ بہت تیزی کے ساتھ لپک کر جانے والے ہیں اور وہ یہ کہ اس امت پر دنیوی مال و متاع کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور وہ اس میں ایک دوسرے سے مقابلہ آرائی کرتے ہوئے، اس کے حصول کے لیے ایک دوسرے کی جان کے درپے ہو جائیں گے اور اس طرح یہ امت بھی ہلاکت و تباہی کا شکار ہوگی، جس طرح ان سے قبل لوگ ہلاک و برباد ہوئے۔ عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے منبر پر رسول اللہ ﷺ کو یہی آخری مرتبہ دیکھا۔