عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیٹی کی نمازِ جنازہ پڑھائی، چنانچہ آپ نے چار تکبیریں کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد اپنی بیٹی کے حق مین دعا واستغفار کرتے ہوئے تھوڑی دیر کھڑے رہے؛ اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ نے پہلی تکبیر نماز میں داخل ہونے کے لیے کہی پھر آپ نے سورہ فاتحہ پڑھی، پھر دوسری تکبیر کی اور درود شریف پڑھا، اُس کے بعد آپ نے تیسری تکبیر کہی اور میت کے لیے دعا کی، پھر چوتھی تکبیر کہی۔ پھر آپ نے سلام پھیرنے کے بعد ان لوگوں سے جنھوں نے ان کے ساتھ نماز جنازہ پڑھا تھا کہا، اسی طرح رسول ﷺ بھی کرتے تھے یعنی چار تکبیریں کہتے تھے اور چوتھی تکبیر کے بعد میت کے لیے دعا کرتے تھے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے حسبِ سابق چار تکبیریں کہیں اور چوتھی تکبیر کے بعد ٹھہر کر دعا واستغفار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کے پیچھے لوگوں کو گمان ہوا کہ آپ پانچویں تکبیر کہیں گے، پھر آپ نے پہلا سلام اپنی داہنی اور دوسرا سلام اپنی بائیں جانب پھیرا، جس طرح نماز میں ہوتا ہے، چنانچہ نماز کے اختتام کے بعد ان کے ساتھ نماز پڑھنے والے لوگوں نے ان سے چوتھی تکبیر کے بعد تاخیر کرنے اور فورًا سلام نہ پھیرنے کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: نبی ﷺ جو کیا کرتے تھے، میں نے اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ سلام پھیرنے کے متعلق علماء کے درمیان اختلاف ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سب سے زیادہ اور سب سے صحیح جو بات ثابت شدہ ہے وہ صرف داہنی جانب ایک سلام پھیرنا ہے۔ یہاں تک کہ اس پر اجماع بھی نقل کیا گیا جیسا کہ ابن قدامہ رحمہ اللہ نے مغنی میں نقل کیا ہے۔ اس حدیث کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے حسن قرار دیا ہے لیکن اس حدیث کے حسن ہونے میں علماء کا اختلاف ہے کیوں کہ اس کی سند میں ابراھیم الہجری ہے جو کہ ضعیف ہے۔ صرف ایک سلام پھیرنے کے متعلق ایک مرفوع حدیث بھی آتی ہے لیکن وہ مرسل ہے۔