ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے یہاں آکر شکایت کی کہ اس کے کچھ رشتے دار ہيں، جن کے ساتھ وہ اچھا سلوک کرتا ہے اور وہ اس کے ساتھ برا سلوک کرتے ہيں۔ وہ رشتہ جوڑتا ہے اور اس کے رشتے دار کاٹتے ہيں۔ وہ بھلا کرتا ہے اور اس کے رشتے دار برا کرتے ہيں۔ وہ بردباری دکھاتا ہے اور درگزر سے کام لیتا ہے اور اس کے رشتے دار جہالت آمیز برتاؤ کرتے ہيں۔ ایسے میں اس کی جانب سے صلہ رحمی کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے یا نہیں؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اگر تیری بات درست ہے، تو تم انھیں خود ان کی نظر میں رسوا اور ذلیل کر رہے ہو گویا کہ تو انھیں گرم راکھ کھلا رہا ہے۔ کیوں کہ تم کثرت سے ان پر احسان کر رہے ہو اور وہ اپنے تئیں بد عملی کر رہے ہیں۔ جب تک تو ان پر احسان کرنے کی اپنی اس روش پر قائم رہے گا اور وہ تیرے ساتھ بدسلوکی کی اپنی روش پر قائم رہيں گے، اللہ کی جانب سے ان کے خلاف ایک معاون اور تجھے ان کی ایذا رسانیوں سے بچانے کے لیے ایک محافظ تیرے ساتھ لگا رہے گا۔