explain-icon

شرح

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ وہ کون کون سی چيزیں ہیں، جو ایک مومن کے لیے دنیا و آخرت کی نجات کا باعث بنتی ہیں؟ جواب میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہا کہ تین باتوں کا خیال رکھا کرو: 1- تمام طرح کی بری اور غیر مفید باتوں سے اپنی زبان کی حفاظت کرو اور صرف اچھی باتوں کے لیے ہی منہ کھولا کرو۔ 2- اپنے گھر میں رہا کرو، تاکہ تنہائی میں اللہ کی عبادت کر سکو، اس کی بندگی میں مشغول رہو اور گھر میں رہ کر فتنوں سے کنارہ کشی اختیار کرو۔ 3- اپنے گناہوں پر رویا کرو، شرمندہ رہو اور اللہ کے حضور توبہ کرو۔

explain-icon

حدیث کے کچھ فوائد

  • صحابہ کی بھر پور کوشش ہوا کرتی تھی کہ نجات کے راستے جان سکیں۔
  • دنیا وآخرت میں نجات کا باعث بننے والی چيزوں کا بیان۔
  • جب دوسرے کا بھلا کرنا ممکن نہ ہو یا لوگوں کے میل جول رکھنے کی صورت میں اپنے دین اور نفس کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہو، تو انسان کو خود کو اپنی ذات تک محدود کر لینا چاہیے۔
  • خاص طور سے فتنے کے وقت گھر سے وابستہ ہو جانے کا اشارہ۔ یہ دین کی حفاظت کا ایک طریقہ ہے۔