جلیل القدر صحابی لقیط بن صبرۃ رضی اللہ عنہ اس حدیث میں اس بات کی وضاحت فرمارہے ہیں کہ وہ سردار کی حیثیت سے اپنی قوم کےایک وفد کو لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں تشریف لائے۔ وفود کا یہ معمول تھا کہ وہ نبی ﷺ سے اپنے اہمیت کے حامل اور غیر واضح مسائل دریافت کرتے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا نے ان کے لیے شوربا( جس میں گوشت کو ابالے جانے کے بعد آٹا یا چاول ڈالا جاتا ہے) اور کھجور پیش کیے۔ (اسی دوران) نبی ﷺ کے چرواہے پر اس وفد کی نظر پڑی، جس کے ساتھ بکری کا ایک چھوٹا نومولود بچہ تھا۔ آپ ﷺ نے اس چرواہے کو حکم دیا کہ ایک بکری ذبح کردے اور وفد سے اس بات کی وضاحت فرمادی کہ آپ نے اس وفد کی خاطر اس بکری کو ذبح نہیں کروایا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ یہ گمان کربیٹھیں کہ آپ نے پرتکلف مہمان نوازی کا اہتمام فرمایا ہے۔ اس لیے آپ نے اس امکانی خیال کو دور فرمادیا۔ صحابی رسول ﷺ کے سوالات میں سے ایک سوال یہ تھا کہ بدزبان و بدگو بیوی کے ساتھ کس طرح برتاؤ کیا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس بیوی میں کچھ خیر و بھلائی موجود ہوتو اس کے حق میں وعظ و نصیحت کارگر ہوجائے گی؛ ورنہ طلاق ہی اس کا حل ہے۔ نیز آپ نے انھیں اس بات کا بھی حکم دیا کہ اپنی بیوی کو اس طرح نہ ماریں پیٹیں، جس طرح لونڈی کو مارا جاتا ہے۔ نیز صحابی رسول ﷺ نے آپ سے وضو کے بارے میں استفسار کیا، تو آپ نے واضح فرمادیا کہ کامل وضو کرنا واجب ہے۔ یعنی وضو میں دھوئے جانے والے اعضا میں سے ہر عضو کو کامل طریقے سے دھویا جائے۔ مسح کامل طریقے سے کیا جائےاور انگلیوں کے درمیان خلال کی سنت کو ملحوظ رکھا جائے۔ یہ سب اس لیے تاکہ وضو کے تمام اعضا تک پانی پہنچ جانے کا یقین ہو جائےاور اگر خلال ہی کے ذریعہ پانی انگلیوں کے درمیان پہنچ سکتا ہو تو کامل طریقے سے وضو کا پانی پہنچانا واجب ہے۔ پھر آپ ﷺ نے حد درجہ ناک میں پانی چڑھانے کی سنت کو واضح فرماتے ہوئے روزے دار کو اس خدشے کے ساتھ مستثنی فرمادیا کہ کہیں اس کے پیٹ میں پانی داخل نہ ہوجائے اور اس عمل کے سنت ہونے اور واجب نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ صرف عدم روزہ ہی میں اس کو پسندیدہ قرار دیا گیا۔