ایک اعرابی جمعہ کے دن نبی ﷺ کی مسجد میں اس مغربی دروازے سے داخل ہوا جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف تھا، جبکہ نبی ﷺ کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔ اس شخص نے نبی ﷺ کی طرف رخ کیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مویشی ہلاک ہو گئے، اور ان جانوروں کے مرنے یا بھوک سے کمزور ہو جانے کے سبب راستے بند ہو گئے ہیں، آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہم پر بارش برسائے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر ارشاد فرمایا: ”اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، اے اللہ! ہمیں سیراب فرما۔“ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا بھی نہ تھا، اور ہمارے اور جبلِ سلع، جو مسجد کے مغرب میں واقع ہے اور جہاں سے بادل اٹھتے ہیں، کے درمیان کوئی گھر یا مکان نہیں تھا جو اسے دیکھنے میں حائل ہوتا۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: چنانچہ اس کے پیچھے سے ڈھال کی طرح ایک گول بادل نمودار ہوا، جب وہ مدینہ کے آسمان کے وسط میں پہنچا تو پھیل گیا، پھر برسنے لگا۔ اللہ کی قسم! ہم نے بارش کے سبب اگلے جمعہ تک سورج نہیں دیکھا۔ پھر اگلے جمعہ کو وہی شخص اسی دروازے سے داخل ہوا جبکہ رسول اللہ ﷺ کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔ وہ کھڑے کھڑے ہی آپ کی طرف متوجہ ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مال تباہ ہوگئے اور راستے بند ہوگئے، آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ ہم سے بارش روک دے۔ راوی کا بیان ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک اٹھائے اور پھر یہ دعا فرمائی: ’’اے اللہ! بارش کو ہمارے اردگرد پھیر دے اور ہم پر نہ برسا۔ اے اللہ! اسے ٹیلوں اور پہاڑیوں جیسی بلند جگہوں پر، وادیوں میں اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا۔‘‘ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ بارش والا بادل چھٹ گیا، اور ہم دھوپ میں چلنے لگے۔