explain-icon

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسے لوگوں کے حق میں اللہ کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کر دیے جانے کی بد دعا کی ہے، جو رشوت دیتے اور لیتے ہوں۔ اس کے اندر وہ چیزیں بھی شامل ہیں، جو قاضیوں کو ان فیصلوں کے بارے میں دی جاتی ہیں، جو ان کو کرنا ہوتا ہے اور جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دینے والا غلط طریقے سے اپنے حق میں فیصلہ دلوا لے۔

explain-icon

حدیث کے کچھ فوائد

  • رشوت دینا، لینا، اور رشوتا مي، واسطہ بننا اور اس میں کسی بھی طرح کی مدد کرنا حرام ہے، کیوں کہ یہ غلط کام میں مدد کرنا ہے۔
  • رشوت میں ملوث ہونا کبیرہ گناہ ہے، کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت کی ہے۔
  • قضا اور فیصلے کے سلسلے میں رشوت دینا اور لینا زیادہ بڑا جرم اور سخت گناہ ہے۔ کیوں کہ یہ ظلم اور اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کو درکنار کرکے من مانی انداز میں فیصلہ کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔