اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مومن کو اچھے کاموں کی طرف تیزی سے بڑھنے اور زیادہ سے زیادہ اچھے کام کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں، قبل اس کے کہ اچھے کاموں سے روک دینے والے فتنوں اور شبہات کی آمد کی وجہ سے انھیں کرنا دشوار ہو جائے اور انسان کے ہاتھ سے موقع نکل جائے۔ یہ فتنے تاریکیوں کی شکل میں نمودار ہوں گے۔ مانو رات کے ٹکڑے ہوں۔ ان کے آنے کی وجہ سے حق باطل کے ساتھ اس طرح گڈ مڈ ہو جائے گا کہ انسان کے لیے دونوں کے درمیان فرق کرنا دشوار ہو جائے گا۔ حالت یہ ہوگی کہ انسان بدحواسی کا شکار ہو جائے گا۔ صبح مومن رہے گا، تو شام کو کافر ہو جائے گا۔ شام کو مومن رہے گا، تو صبح کافر بن جائے گا۔ دنیا کے متاع فانی کی وجہ سے دین سے کنارہ کش ہو جائے گا۔