نبی ﷺ نے جنت میں ایک آدمی کو گھومتے پھرتے دیکھا اس وجہ سے کہ اس نے ایک ایسے درخت کو کاٹ کر ہٹا دیا تھا جو مسلمانوں کو تکلیف دے رہا تھا۔ اسے اللہ تعالیٰ نے ایک ٹہنی کو مسلمانوں کے راستے سے ہٹا دینے کے سبب بخش دیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ٹہنی اوپر سے (لٹک کر) ان کے سروں پر لگ کر انہیں تکلیف دے رہی ہو یا پھر نیچے سے ان کے پاؤں کی جانب سے ان کے لیے اذیت کا باعث بن رہی ہو۔ بہرحال اس آدمی نے اسے ایک طرف کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی قدر دانی فرمائی اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔