حدیث کا مفہوم: ایسا کبھی نہ ہوا کہ نبی ﷺ سے کسی نے دنیوی امورمیں سے کچھ مانگا ہو اور آپ ﷺ نے “ نہيں” کہہ کر دینے سے انکار کر دیا ہو۔ بلکہ اگر وہ چيز آپ ﷺ کے پاس ہوتی تو آپ ﷺ اسے ضرور دے دیتے یا پھر اس مانگنے والے کو اللہ کے حکم ﴿وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ﴾ ”اور سوال کرنے والے کو نہ جھڑکيں۔) کی تعمیل میں کوئی اچھی بات کہہ دیتے“۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے الادب المفرد میں انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ بہت شفیق تھے۔ آپ ﷺ کے پاس جو بھی شخص (کوئی چيز مانگنے کے لئے) آتا تو آپ ﷺ اس سے دینے کا وعدہ کر لیتے اور اگر آپ ﷺ کے پاس وہ چيز ہوتی تو دے دیتے۔ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا۔ آپ ﷺ نے اپنی ازواج کے پاس (اس کا کھانا منگانے کے لئے) ایک آدمی کو بھیجا۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو اس کو اپنے ساتھ لے جائے؟ یا یہ فرمایا کہ: کون ہے جو اس کی مہمان نوازی کرے؟ (بخاری)۔ اسی طرح صحیح بخاری میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت آپ ﷺ کے پاس ایک چادر لے کر آئی... اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ آپ کو پہنانے کے لیے اپنے ہاتھ سے بنا ہے۔ نبی ﷺ نے اسے لے لیا اور آپ ﷺ کو اس کی ضرورت بھی تھی۔ آپ ﷺ ہمارے پاس آئے تو وہ چادر آپ ﷺ کی تہ بند تھی۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اسے مجھے پہنا دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ نبی ﷺ اس مجلس میں (کچھ دیر) تشریف فرما رہے۔ پھر واپس چلے گئے اور اس چادر کو لپيٹ کر آپ ﷺ نے اس آدمی کے پاس بھیج ديا۔ لوگوں نے اس سے کہا: تم نے اچھا نہیں کیا، تم نے یہ چادر آپ ﷺ سے مانگ لی حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ آپ ﷺ کسی مانگنے والے کو منع نہیں کرتے ہيں۔ اس پر وہ آدمی کہنے لگا: اللہ کی قسم! میں نے آپ ﷺ سے صرف اس لیے مانگا کہ ميری وفات کے دن يہ میرا کفن بن جائے۔ سہل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہی چادر اس کا کفن بنى۔ آپ ﷺ کا مانگنے والے کے ساتھ یہی رویہ ہوا کرتا تھا۔ اگر وہ چيز آپ ﷺ کے پاس ہوتی تھی تو آپ ﷺ اسے عنایت کردیتے تھے اگرچہ آپ ﷺ کو اس کی ضرورت ہی ہوتی۔ اور اگر وہ آپ ﷺ کے پاس نہیں ہوتی تو پھر آپ ﷺ مانگنے والے سے معذرت کر لیتے یا پھر کسی اور وقت کا اس سے وعدہ کر لیتے یا پھر اس کے لیے اپنے صحابہ سے سفارش کرديتے تھے۔ یہ آپ ﷺ کا جود و کرم اور حسن اخلاق تها۔