عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول! اسلام کے احکام زیادہ ہونے کی وجہ سے مجھ پر بھاری ہوگئے ہیں۔ لہذا مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں، جسے میں مضبوطی سے پکڑ لوں۔ آپ نے فرمایا : ’’تمھاری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہے۔‘‘ صحيح - رواه الترمذي وابن ماجه وأحمد
explain-icon

شرح

ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حضور شکایت کی کہ اسے نفل عبادتیں اتنی زیادہ لگتی ہیں کہ اپنے ضعف کی وجہ سے انھیں انجام دے نہيں سکتا۔ پھر گزارش کی کہ آپ اسے کوئی چھوٹا سا عمل بتا دیں، جس سے بہت سارے ثواب حاصل ہو جائيں اور جسے وہ مضبوطی سے پکڑے رہیں۔ لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی رہ نمائی اس جانب کی کہ ہمیشہ اس کی زبان اللہ کے ذکر سے تر اور ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کے ذکر میں مشغول رہے۔ ذکر میں سبحان اللہ، الحمد للہ، استغفر اللہ اور دعا وغیرہ شامل ہيں۔

explain-icon

حدیث کے کچھ فوائد

  • اللہ کے ذکر پر مداومت برتنے کی فضیلت۔
  • اللہ کا ایک بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے خیر کے اسباب آسان فرما دیے ہیں۔
  • خیر و بھلائی اور نیکی کے کاموں میں بندے ایک دوسرے سے الگ الگ درجات کے حامل ہوا کرتے ہيں۔
  • کثرت سے اور حضور قلب کے ساتھ سبحان اللہ، الحمد للہ، لاالہ الا اللہ اور اللہ اکبر وغیرہ کہنا بہت سی نفلی عبادتوں کے برابر ہے۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سوال کرنے والوں کا خیال کرتے ہوئے ہر سائل کو وہی جواب دیتے، جو اس کے لیے مناسب ہو۔