یہ حدیث مجالسِ ذکر کی تعظیم کے مظاہر میں سے ایک مظہر بیان کر رہی ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو راستوں میں پھرتے رہتے ہیں اور اللہ کا ذکر اذکار کرنے والوں کو تلاش کرتے رہتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کا ایک خاص گروہ مقرر کیا ہے جو زمین میں حفاظت کے لیے مامور نہیں بلکہ وہ مسلمانوں کے راستوں اور مساجد کے اردگرد چکر لگاتے ہیں۔ان چکروں کے ساتھ وہ ذکر کی مجالس تلاش کرتے، اس میں حاضر ہوتے اور اہل مجلس کے ذکر کو سنتے ہیں۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ : یہ غالب حد تک تسبیح وغیرہ کی مجالس کے ساتھ خاص ہے۔ ”پس جب وہ ایسے لوگوں کو پالیتے ہیں جو اللہ کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں“ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”جب وہ کسی ایسی مجلس کو پا تے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو رہا ہوتا ہے تو ایک دوسرے کو آواز لگاتے ہیں“یعنی ایک دوسرے کو بلاتے ہیں، کہ اپنی طلب کی طرف آؤ اور ایک روایت میں ہے ”اپنی تلاش کی طرف“ یعنی ذکر کی جس مجلس کو تلاش کر رہے ہو اس کی طرف آؤ۔ اس مجلس میں بیٹھے لوگوں کی طرف پہنچو تاکہ ان کی زیارت کرسکو اور ان کے ذکر کو سُنْ سکو۔ جب وہ فرشتے ذکر کی مجلسوں میں ہوتے ہیں تو ان کی کیفیت بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا ”فَيَحُفُّونَهُمْ“ یعنی وہ اپنے پروں سے ان کو گھیر لیتے ہیں، جس طرح کنگن کلائی کو گھیر لیتا ہے۔ ”انھیں اپنے پروں سے گھیر لیتے ہیں“ یعنی مجلس کے ارد گرد اپنے پروں سے گھومتے ہیں۔آسمان تک یعنی ایسا کرتے ہوئے وہ آسمان تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اللہ رب العزت اور فرشتوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو بیان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: پھر ان کا رب ان سے پوچھتا ہےحالاں کہ وہ اپنے بندوں کے متعلق خوب جانتا ہے، یعنی وہ ان کے حالات سے بخوبی واقف ہے، ایسا وہ صرف ملاء اعلیٰ میں ان کی بلندیٔ شان کے بیان اور فرشتوں کے سامنے فخرکرتے ہوئے کہتا ہے: میرے بندے کیا کہتے تھے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں وہ تیری تسبیح ،تکبیر، حمد اور بزرگی بیان کرتے ہیں، یعنی فرشتے کہتے ہیں کہ یہ ذکر کرنے والے سبحان الله والحمد لله، ولا إله إلاّ الله، والله أكبر (اللہ پاک ہے،تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اللہ کے علاوہ کوئی اور حقیقی معبود نہیں ہے اور اللہ بہت بڑا ہے) کہتے ہیں۔ ’تمجید‘ سے مراد ان کا یہ قول ہے ’’لا إله إلاّ الله‘‘ (اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں) کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی توحید الوہیت کے ساتھ اس کی تعظیم بیان کی جار ہی ہے۔ اللہ عزوجل ان سے پوچھتا ہے: کیا انھوں نے مجھے دیکھا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ واللہ! انھوں نے آپ کو نہیں دیکھا۔تو اللہ فرماتا ہے کہ اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو ان کا کیا حال ہوگا؟، فرشتے جواب دیتے ہیں: اگر وہ تیرا دیدار کرلیتے تو تیری عبادت اور بھی بہت زیادہ کرتے، تیری بڑائی اورزیادہ بیان کرتے، تیری تسبیح اور زیادہ کرتے، اس لیے معرفت کے مطابق عبادت و ریاضت میں زیادتی و اضافہ ہوتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتاہے : وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے؟ یعنی مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں : تجھ سے تیری جنت مانگ رہے تھے، یعنی جنت کی خواہش کے ساتھ تیرا ذکر اور تیری عبادت کرتے ہیں۔ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ اگر انھوں نے تیری جنت کو دیکھا ہوتا تو اس کے اور بھی زیادہ خواہش مند ہوتے، یعنی اس کے لیے اور زیادہ کوشش کرتے کیوں کہ شنیدہ کے بود مانند دیدہ (خبر آنکھوں دیکھی بات کی طرح نہیں ہوتی)؟!۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگتے تھے؟ یعنی کس چیز سے وہ ڈرتے تھے اور اپنے رب سے اس سے بچائے رکھنے کا سوال کرتے تھے؟ تو فرشتے جواب دیتے ہیں: آگ سے، یعنی وہ جہنم سے ڈرتے ہوئے اپنے رب کا ذکر اور اس کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اس سے بچائے رکھنے کا سوال کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: اگر وہ اس کو دیکھ لیں تو ان کا کیا حال ہو ؟، فرشتے جواب دیتے ہیں: اگر وہ اس کو دیکھ لیں تو اس سے اور زیادہ دور بھاگیں، یعنی وہ نیک اعمال کو اختیار کرنے کی اور زیادہ کوشش کریں جوکہ جہنم سے بچاؤ کا سبب ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا ہے، یعنی میں نے ان کے تمام گناہوں کو معاف کر دیا۔ ان فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کہتا ہے: فلاں شخص ان میں سے نہیں تھا وہ کسی کام سے آیا تھا، یعنی ان ذکر کرنے والوں کے ساتھ ایک شخص ایسا بھی تھا جو ان میں سے نہیں تھا بلکہ وہ اپنے کسی کام سے آیا تھا اور جس سے کام تھا وہ اس مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، کیا اسے بھی بخش دیا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان کے ساتھ بیٹھنے والا بھی بدبخت اور محروم نہیں رہ سکتا۔