اس حدیث میں نماز وغیرہ میں قرآن مجید کی تلاوت کے موقع پر اچھی آواز سے تلاوت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے؛ اس طور پر کہ قرآن مجید کو بلند آواز سے، خوب دل نشین انداز میں، ترنم کے ساتھ، رقت آمیز انداز میں، دیگر ماضی کے واقعات سے بے نیازی اختیار کرتے ہوئے، اسی کے ذریعے نفس کی بے نیازی طلب کرتے ہوئے اور دنیاداروں کی مال داری سے بے نیازی کا امیدوار ہوکر اسے پڑھے۔ حدیث میں مذکور تغنی (سر آمیزی) سے مقصود دل کش و دل نشین انداز میں پڑھنا ہے، موسیقانہ نغموں کے آہنگوں کے مطابق پڑھنا نہیں۔