اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جان بوجھ کر کسی مسلمان کا حق چھیننے کے لیے اللہ کی جھوٹی قسم کھانے سے منع فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ اس سے انسان جہنم کا مستحق بن جاتا ہے اور جنت سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہ دراصل کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ آپ کی بات سننے کے بعد ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! جس چيز کے لیے قسم کھائی گئی ہے، وہ تھوڑی ہو تب بھی یہی سزا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا: وہ مسواک کے لیے استعمال میں آنے والی پیلو کے پیڑ کی ایک لکڑی ہو، تب بھی یہی سزا ہے۔