نبی ﷺ اپنے صحابہ کو نمازِ استخارہ کی کیفیت سکھلانے کی اسی طرح حرص رکھتے تھے، جس طرح انھیں قرآن کی سورت کی تعلیم دینے کی حرص رکھتے تھے۔ نبی ﷺ نے بتایا کہ انسان فرض نمازوں کے علاوہ دو رکعات نماز ادا کرے، پھر سلام کے بعد اللہ سے دعا کرے کہ وہ (زیر غور) دو معاملوں یا معاملات میں بہتر کی طرف اس کے سینے کو کھول دے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ تمام امور کی کیفیات و جزئیات کا علم رکھتا ہے۔ اسے یوں سمجھا جائے کہ دونوں معاملوں میں بہتر کا احاطہ وہی کر سکتا ہے، جو اس سے واقف ہو اور ایسا اللہ کی ذات کے سوا کوئی نہیں ہے۔ وہ اللہ سے دونوں معاملوں میں سے جو اچھا ہو، اس کے کرنے کی طاقت مانگے اور اس کے فضلِ عظیم کا سوال کرے؛ کیوں کہ وہ ان تمام ممکنہ امور کی طاقت رکھتا ہے، جو اس کی مشیئت کے مطابق ہوں، جب کہ انسان کسی چیز کی طاقت نہیں رکھتا۔ اللہ عز و جل ہر کلی و جزئی چیز کو جانتا ہے اور انسان اس میں سے اتنا ہی جانتا ہے، جتنا اللہ نے اسے سکھایا ہو؛ کیوں کہ اللہ کے علم غیب کے احاطے سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔ پھر اپنے رب سے طلب کرے کہ اگر یہ کام (اور اس کا نام لے) جس کا اس نے اردہ کیا ہے، اس کے علم میں بہتر ہے اور اس کی وجہ سے کوئی دینی یا دنیوی نقصان مرتب نہیں ہوگا، تو اسے اس کے لیے مقدر و آسان کردے۔ اور اگر یہ کام اس کے علم کے مطابق کسی دینی یا دنیوی نقصان کا باعث ہو، تو اسے اس سے دور کردے اور اس کام کو اس سے دور کردے، اور بھلائی اس کا مقدر کردے، چاہے جہاں کہیں بھی وہ ہو، پھر اسے اللہ کی قضا و قدر سے راضی کردے۔