نبی ﷺ نے قبیلہ بنی عبد قیس کے اشج نامی شخص سے کہا کہ تمہارے اندر دو خصلتیں یعنی عادتیں ایسی ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول پسند کرتے ہیں۔ وہ دو عادتیں بُردباری اور عدم عجلت ہیں۔اس لیے کہ اشج نے متانت اور وقار اختیار کرکے اپنے قرین مصلحت امور میں غور وفکر کیا اور اپنی قوم کے ساتھ آپ ﷺ کے پاس آنے میں جلدبازی سے کام نہیں لیا۔ ان کی بُردباری آپ ﷺ کے ساتھ گفتگو سے ظاہر ہوتی ہے۔ ان کی گفتگو ان کی سلامتِ عقل اورانجام کار پر گہری نظر کے حامل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔