جو شخص نیکیوں کے ذریعے اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اگرچہ وہ کم ہی کیوں نہ ہوں اللہ تعالیٰ اسے کئی گنا زیادہ ثواب و اکرام سے نوازتا ہے اور جب جب وہ نیکی میں بڑھتا جاتا ہے تو وہ اس کے ثواب میں اضافہ کرتا ہے اور فوری طور پر اس پر اپنی رحمت اور فضل نچھاور کرتا ہے۔ اور یہ تفسیر اس اعتبار سے ہے کہ یہ حدیث صفات کی احادیث میں سے نہیں ہے، جیسا کہ اہل سنت و جماعت کے ایک بڑے گروہ کا مذہب ہے جو صفات کو ثابت کرتے ہیں اور انہی میں سے ابن تیمیہ ہیں اور ایک دوسری جماعت نے صفتِ ھرولۃ ’دوڑ کر آنے کی صفت‘ کو بغیر اس کی کیفیت میں کلام کیے اللہ تعالی کے لیے اثبات کیا ہے۔