اوقات، مقامات اور دیگر اشیاء بذات خود اس قدر مقدس و معظم نہیں ہوتے بایں طور کہ یہ ذاتی طور پر عبادت کی تعظیم کے حقدار ہوں، بلکہ ان کی تعظیم شریعت کی بنا پر ہوتی ہے۔ اسی لیے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حجرِ اسود کے پاس آئے اور حاجیوں کے سامنے اس کا بوسہ لیا جنھیں بتوں کی پوجا اور ان کے احترام کو چھوڑے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا اور وضاحت فرمائی کہ اس پتھر کو چومنا اور اس کی تعظیم کرنا ان کی اپنی اپچ نہیں اور نہ ہی اس وجہ سے ہے کہ اس سے کوئی نفع یا نقصان ہوتا ہے بلکہ یہ تو ایک عبادت ہے جسے انھوں نے شارع علیہ السلام سے لیا ہے۔ انھوں نے نبی ﷺ کو ا س کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ کی اقتداء میں انھوں نے بھی اس کا بوسہ لیا نہ کی اپنی ذاتی رائے کی بنا پر یا خود ساختہ طور پر ایسا کیا۔