سائب بن یزید رضی اللہ عنہما ایک کم سن صحابی تھے۔ ان کے گھر والوں نے نبی ﷺ کے زمانے میں انھیں لے کر حج کیا۔ اس طرح وہ حجۃ الوداع میں شریک ہو گئے۔ نبی ﷺ نے بچوں کو ساتھ لے کر حج کرنے پر کوئی نکیر نہیں فرمائی۔ بچے کے لیے یہ ایک نفلی حج شمار ہوتا ہے اور بلوغت کے بعد اس پر دوبارہ اسلام کی رو سے فرض شدہ حج کرنا ضروری ہوتا ہے۔ حج کے دوران بچہ بھی ویسے ہی کرتا ہے، جیسے بڑا (بالغ) کرتا ہے۔ یعنی احرام باندھتا ہے، سلے ہوئے کپڑے اتار دیتا ہے، تلبیہ کہتا ہے اور اس طرح کے دیگر افعال سر انجام دیتا ہے۔ اگر بچہ ایسا نہ کر سکے تو اس کی طرف سے اس کا سربراہ مثلاً باپ یا ماں کرے۔