اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ ویسے تو ہر مومن میں خیر ہوتی ہے، لیکن ایمان، عزیمت اور مال وغیرہ طاقت کے پہلوؤں میں قوی مومن اللہ عز و جل کے یہاں کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مومن کو ایسے اسباب اختیار کرنے کی وصیت فرمائی جن سے دنیا وآخرت کی بھلائی حاصل ہو سکے‘ ساتھ ہی اللہ پر اعتماد، اس سے مدد مانگنے کا جذبہ اور اس پر بھروسہ شامل حال ہوں۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عاجزی، سستی اور دونوں جہانوں میں نفع پہنچانے والی چيزوں سے پیچھے رہنے سے منع فرمایا ہے۔ جب مومن پوری تندہی سے عمل کرے، اسباب اختیار کرے، اللہ سے مدد اور خیر طلب کرتا رہے، تو اس کے بعد بس اتنا بچ جاتا ہے کہ اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کر دے اور اس بات کا یقین رکھے کہ اللہ جو کرے گا، وہ خیر ہی ہوگا۔ اس کے بعد اگر کوئی مصیبت لاحق ہو، تو یہ نہ کہے : "اگر میں ایسا کر لیتا، تو ایسا اور ایسا ہوتا۔" "کیوں کہ لفظ (اگر) شیطان کے عمل کے راستے کھول دیتا ہے۔" یعنی انسان تقدیر پر اعتراض اور فوت شدہ چيز پر افسوس کرنے لگتا ہے۔ انسان کو راضی بہ رضا رہتے ہوئے اور خود سپردگی کا ثبوت دیتے ہوئے بس اتنا کہنا چاہیے : "یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔" لہذا جو کچھ ہوا، وہ اللہ کے ارادے کے مطابق ہوا۔ کیوں کہ وہ جو چاہتا ہے، کر گزرتا ہے۔ اس کے فیصلے کو کوئی ٹال نہيں سکتا اور اس کے حکم کو کوئی روک نہیں سکتا۔