اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے نیکیاں اور برائیاں مقدر کر دی اور پھر فرشتوں کو بتایا کہ ان کو کیسے لکھا جائے۔ لہذا جس نے کوئی اچھا کام کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور اسے کر نہ کر سکا، تب بھی اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ اگر اسے کر لیا، تو اس کے لیے دس سے سات سو، بلکہ اس سے بھی زیادہ نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ دراصل نیکی میں یہ اضافہ دل کے اندر موجود اخلاص اور اس کام سے دوسروں کو ہونے والے فائدے کے مطابق ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف جس نے کوئی برا کام کرنے کا پختہ ارادہ کیا اور پھر اسے اللہ کے لیے چھوڑ دیا، اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ لیکن اگر اسے دلچسپی نہ ہو نے کی وجہ سے چھوڑا اور اس کے اسباب پر بھی ہاتھ نہ لگایا، تو کچھ نہیں لکھا جاتا۔ جب کہ اسے قدرت نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑا، تو اس کی نیت کو اس کے خلاف لکھا جاتا ہے۔ اور اگر اسے کر لیا تو اس کے کھاتے میں ایک گناہ لکھا جاتا ہے۔