مدینے کے یہودیوں میں بنو قریظہ اور بنو نضیر تھے۔ جاہلیت میں ان میں سے ایک قبیلہ دوسرے پر غالب آ گیا تھا۔ چنانچہ ان کے مابین یہ صلح طے پائی کہ غالب قبیلے کے ہاتھوں قتل ہونے والے مغلوب قبیلے کے ہر فرد کی دیت صرف پچاس وسق ہوگی، جب کہ مغلوب قبیلے کے ہاتھوں قتل ہونے والے غالب قبیلے کے ہر فرد کی دیت اس سے دوگنی یعنی سو وسق ہوگی۔ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔ وہ اسی حال پر قائم رہے یہاں تک کہ نبی ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے، اور دونوں گروہ آپ ﷺ کی تشریف آوری پر آپ کے تابع ہو گئے۔ حالانکہ اس وقت آپ ﷺ نے ابھی تک اپنے دشمنوں پر فتح نہیں پائی تھی اور نہ ہی انہیں اپنی اطاعت پر مجبور کیا تھا؛ کیونکہ یہ ہجرت کے بالکل ابتدائی ایام کی بات تھی اور آپ ﷺ (ان کے ساتھ) صلح کے مرحلے میں تھے۔ اس درمیان کمزور قبیلے کے ہاتھوں طاقتور قبیلے کا ایک شخص قتل ہوگیا، اس پر طاقتور قبیلے نے کمزور قبیلے کو پیغام بھیجا کہ معاہدے کے مطابق ہمیں سو وسق بھیجو۔ کمزور قبیلے نے کہا: کیا کبھی دو ایسے قبیلوں میں بھی ایسا ہوا ہے جن کا دین، نسب اور وطن ایک ہو، (پھر بھی) ان میں سے ایک کی دیت دوسرے کی دیت سے آدھی ہو؟! ہم نے تو تمہیں یہ محض تمہارے ظلم اور تم سے خوف کی وجہ سے دیا تھا۔ لیکن اب جب کہ محمد ﷺ تشریف لاچکے ہیں، ہم تمہیں یہ ہرگز نہیں دیں گے۔ چنانچہ قریب تھا کہ ان دونوں کے درمیان جنگ چھڑ جائے، پھر وہ اس بات پر راضی ہو گئے کہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے درمیان حَکَم بنائیں۔ پھر طاقتور قبیلے نے غور کیا اور کہا: اللہ کی قسم! محمد ﷺ تمھیں ان کے مقابلے میں دو گنا نہیں دیں گے جتنا وہ تمہیں دیتے ہیں۔ اور انہوں نے سچ ہی کہا، انہوں نے یہ مال ہمیں محض ہمارے ظلم اور ان پر ہماری زبردستی کی وجہ سے ہی دیا تھا۔ لہٰذا تم لوگ محمد ﷺ کے پاس خفیہ طور پر کسی کو بھیجو جو تمہارے لیے ان کی رائے معلوم کرکے آئے۔ اگر وہ تمہاری خواہش کے مطابق فیصلہ دیں تو انہیں اپنا حَکَم بنا لینا، اور اگر وہ تمہاری مرضی کے مطابق فیصلہ نہ دیں تو انہیں چھوڑ دینا اور اپنے درمیان حَکَم نہ بنانا۔ چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ کی رائے جاننے کے لیے منافقین میں سے کچھ لوگوں کو خفیہ طور پر رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی اور اپنے رسول کو ان کے تمام معاملے اور ان کے ارادوں سے باخبر کر دیا۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے سورہ مائدہ میں اپنا یہ فرمان نازل فرمایا: {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الذِينَ قَالُوا آمَنَّا} [المائدة: 41]۔ اپنے اس فرمان تک: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمِ الْفَاسِقُونَ} [المائدۃ: 47] پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کی قسم! ان ہی دونوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا: ”اور جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہی لوگ کافر ہیں۔“ [المائدة: 44] اور {... وہی لوگ ظالم ہیں۔} [المائدة: 45] اور {...وہی لوگ فاسق ہیں} [المائدة: 47]، اور اللہ عز وجل نے انھی دونوں کو مراد لیا ہے۔