اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب ایک مسلمان کوئی دعا کرتا ہے اور اللہ سے کوئی ایسی چیز مانگتا ہے، جو گناہ پر مبنی نہ ہو، مثلا وہ کسی گناہ یا ظلم کو آسان کرنے کی دعا نہ کرتا ہو، اسی طرح اس کی مانگی ہوئی چیز قطع رحمی پر مبنی نہ ہو، مثلا وہ اپنے بال بچوں اور رشتے داروں کے حق میں بد دعا نہ کرتا ہو، تو اللہ اسے تین چیزوں میں سے کوئی ایک چیز ضرور عطا کرتا ہے: یا تو اس کی دعا کو فورا قبولیت سے سرفراز کرتے ہوئے اسے اس کی مانگی ہوئی چیز عطا کر دیتا ہے۔ یا پھر آخرت میں اس کا اجر وثواب ذخیرہ کرتے ہوئے اس کے درجات بلند کرتا ہے یا اپنی رحمتوں سے نوازتا ہے یا گناہوں کی مغفرت فرماتا ہے۔ یا پھر دنیا میں دعا کے بہ قدر اس سے برائی دور کر دیتا ہے۔ چنانچہ صحابہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا: تب تو ہم زیادہ سے زیادہ دعا کیا کریں گے، تاکہ ان میں سے کوئی ایک فضیلت حاصل کر سکیں؟ جواب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم جو کچھ مانگو گے اللہ کے پاس اس سے بہت زیادہ اور اس سے بڑی بڑی نوازشیں موجود ہیں۔ اللہ کی نوازشیں کبھی ختم نہيں ہوتیں۔