نبی ﷺ نے اپنے صحابہ سے پوچھا: کیا میں تمہیں بہت زیادہ نفلی روزوں، نمازوں اور صدقات کے ثواب سے بھی افضل چیز کے بارے میں بتاؤں؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: آپس میں لڑنے والوں کے درمیان صلح کرانا، کیونکہ لڑائی جھگڑا لوگوں کے درمیان جدائی، وحشت، باہمی بغض ونفرت اور قطع تعلقی کا سبب بنتا ہے۔ درحقیقت آپسی بگاڑ سے پیدا ہونے والا بغض وہ خصلت ہے جو دین و دنیا کو اس طرح ہلاک اور جڑ سے اکھاڑ دیتی ہے جس طرح استرا بالوں کو مونڈ دیتا ہے۔