رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! مجھے یہ بتائیں کہ اگر کوئی شخص آکر میرا مال ناحق مجھ سے چھیننا چاہے تو مجھے کیا کرنے کا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اسے اپنا مال نہ دو۔ اس نے مزید پوچھا کہ مجھے یہ بتائیں کہ اگر وہ مجھ سے لڑنے لگے تو میں کیا کرنے کا حق رکھتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے مال کا دفاع کرو اگرچہ اس کی وجہ سے اس سے لڑنا پڑے۔ تاہم پہلے آپ کو آسان سے آسان تر طریقے سے اسے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جیسے لوگوں سے مدد مانگ کر یا اسے چھڑی یا اس کی سمت کے بجائے کسی اور طرف فائرنگ وغیرہ کر کے ڈرا دھمکا کر۔ اس شخص نے پوچھا اگر وہ مجھ پر قابو پا لے اور مجھے قتل کر دے تو میرا انجام کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا تجھے شہید کا اجر ملے گا۔ اس نے دریافت کیا کہ اگر میں اس پر قابو پا لوں اور اپنے مال کا دفاع کرتے ہوئے اسے قتل کردوں تو اس کا کیا انجام ہو گا؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ ایک متعینہ مدت کے لیے دوزخ میں جائے گا بشرطیکہ وہ اس عمل کو حلال سمجھ کر نہ کرتا ہو۔ اگر وہ اپنے اس فعل کو حلال سمجھتا ہوا تو اس صورت میں ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ کیونکہ اُس نے ایک ایسی شے کو حلال سمجھا جو دین میں بدیہی طور پر حرام ہے۔