اس حدیث میں چوری کرنے والے پر لعنت یعنی اسے اللہ کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کیے جانے کی بات ہے؛ کیونکہ وہ انڈے اور رسی جیسی معمولی چیزیں چراتا ہے۔ لیکن چوں کہ یہ معمولی چیزیں چرانے والے کو جب چوری کی لت لگ جائے گی، تو وہ اس سے بڑی چیزیں چرانے لگے گا، اس لیے ان معمولی چیزوں کی چوری بھی چرانے والے کا ہاتھ کاٹے جانے اور اس کے لعنت کی بد دعا کے حق دار ہونے یا اس کے اوپر لعنت پڑنے کی اطلاع دینے کا سبب بن جاتی ہے۔