صحابی ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے ایک نماز پڑھی۔ دوران نماز جب وہ اس قعدہ میں تھے، جس میں تشہد پڑھا جاتا ہے، تو پیچھے نماز پڑھ رہے ایک شخص نے کہا کہ قرآن میں نماز کا ذکر بھلائی اور زکوۃ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ لہذا جب نماز ختم ہو گئی، تو وہ لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ان سے پوچھا کہ تم میں سے کس نے کہا ہے کہ قرآن میں نماز کا ذکر بھلائی اور زکوۃ کے ساتھ کیا گیا ہے؟ جب سب لوگ خاموش رہے اور کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، تو دوبارہ سوال کیا۔ لیکن جب پھر بھی کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، تو ابو موسی رضی اللہ عنہ نے حطان سے کہا کہ اے حطان! شاید تم نے ہی یہ بات کہی ہے؟ دراصل انھوں نے حطان سے یہ بات اس لیے کہی کہ وہ ایک دلیر انسان تھے، ان سے ان کے گہرے تعلقات اور بڑی قربت تھی، جس کی وجہ سے اس بات کا امکان نہيں تھا کہ وہ اس الزام سے اذیت محسوس کرتے۔ ساتھ ہی پیش نظر یہ بات بھی تھی کہ دوران نماز گفتگو کرنے والا سامنے آکر اعتراف کر لے۔ چنانچہ حطان نے یہ صاف کر دیا کہ یہ بات انھوں نے نہیں کہی ہے اور بتایا کہ مجھے پہلے ہی سے اس بات کا ڈر تھا کہ آپ یہ سمجھ کر مجھ ہی کو ڈانٹیں گے کہ یہ بات میں نے کہی ہے۔ اتنا سننے کے بعد وہاں موجود ایک شخص نے کہا کہ یہ بات میں نے کہی ہے اور میرا مقصد کچھ برا نہیں تھا۔ لہذا ابو موسی رضی اللہ عنہ نے اسے تعلیم دیتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم نہيں جانتے کہ تمھیں اپنی نماز میں کیا کچھ کہنا ہے اور کیسے کہنا ہے؟ یہ دراصل ایک طرح سے اس کی تردید تھی۔ پھر ابو موسی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک بار اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان سے مخاطب ہوئے اور ان کو ان کی شریعت اور نماز سکھائی۔ اس دوران آپ نے فرمایا : جب تم نماز پڑھو، تو اپنی صفیں درست اور سیدھی کر لیا کرو۔ پھر ایک شخص امام بن کر لوگوں کو نماز پڑھائے۔ چنانچہ جب امام تکبیر احرام کہے، تو تم بھی اسی کی طرح تکبیر احرام کہو اور جب وہ سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے {غير المغضوب عليهم ولا الضالين} [سورہ فاتحہ : 7] تک پہنچے، تو تم آمین کہو۔ جب تم ایسا کروگے، تو اللہ تمھاری دعا قبول کرے گا۔ پھر جب امام تکبیر کہے اور رکوع میں جائے، تو تم بھی تکبیر کہو اور رکوع میں جاؤ۔ امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے رکوع سے اٹھے گا۔ لہذا تم اس سے آگے نہ بڑھو۔ اس دوران تمھارے رکوع میں جانے میں جو ایک لمحے کی دیر ہوگی، وہ تمھارے رکوع سے اٹھنے میں ہونے والی ایک لمحے کی دیر سے پوری ہو جائے گی اور اس طرح تمھارے رکوع کی لمبائی امام کے رکوع کے لمبائی کے برابر ہو جائے گی۔ پھر جب امام "سمع الله لمن حمده" کہے، تو تم "اللهم ربنا لك الحمد" کہو۔ جب نمازی ایسا کہتے ہیں، تو اللہ ان کی دعا اور قول کو قبول فرماتا ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی کی زبانی کہا ہے کہ اللہ نے اس کی سن لی، جس نے اس کی تعریف کی۔ پھر جب امام تکبیر کہے اور سجدے میں جائے، تو مقتدیوں کو بھی تکبیر کہنا اور سجدے میں جانا ہے۔ یہاں اس بات کا دھیان رہے کہ امام مقتدیوں سے پہلے سجدے میں جائے گا اور ان سے پہلے سجدے سے اٹھے گا۔ اس طرح ان کے سجدے میں جانے میں جو ایک لمحے کی دیر ہوگی، وہ ان کے سجدے سے اٹھنے میں ہونے والی لمحے بھر کی دیر سے پوری ہو جائے گی اور اس طرح ان کے سجدے کی لمبائی امام کے سجدے کے برابر ہو جائے گی۔ پھر جب تشہد کے لیے بیٹھے، تو سب سے پہلے یہ دعا پڑھے : "التحيات الطيبات الصلوات لله" ملک، بقا اور عظمت یہ ساری چیزیں اللہ کے لیے ہیں۔ اسی طرح پانچوں نمازیں بھی اللہ کے لیے ہیں۔ "السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين" اس لیے اللہ سے ہر عیب، آفت، نقص اور فساد سے سلامتی مانگو۔ ہم اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو خاص طور سے سلام بھیجتے ہیں، پھر اپنے آپ کو سلام بھیجتے ہیں، پھر اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق ادا کرنے والے اللہ کے نیک بندوں کو سلام بھیجتے ہیں، پھر اس بات کی گواہی دیتے ہيں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔