حدیث شریف میں متعدد امور کا بیان ہے: اول: امامت کا حق دار وہ ہے جسے قرآن زیادہ یاد ہو تاہم ضروری ہے کہ وہ نماز کے احکام کو جانتا ہو کیوں کہ جو شخص نماز کے احکام سے واقف نہ ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے۔ اگر قرآن کے حفظ میں لوگ برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرائے جو سنت کا زیادہ علم رکھنے والا ہو۔ اور اگر اس میں بھی وہ برابر ہوں تو ان میں سے جس نے پہلے ہجرت کی ہو وہ امام بنے اور اگر اس میں بھی وہ برابرہوں تو جس نے اسلام پہلے قبول کیا ہو وہ امامت کے لیے کھڑا ہو۔ دوم: صاحبِ بیت کی امامت کے لیے مہمان آگے نہ بڑھے اِلاّ یہ کہ میزباناسے اجازت دے دے۔ کیونکہ گھر والا امامت کا مہمان سے زیادہ حق دار ہے۔ سوم: مہمان گھر والے کے خاص بستر پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھے۔