مليکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کو کھانے کے لیے بلایا، جو انہوں نے آپ کے لیے تیار کیا تھا۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو اعلی اخلاق اوربلند کردارسے سرفراز کياتھا۔ انہی میں سے ایک آپ کی بے حد تواضع و خاکساری ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ عظيم مقام ومرتبہ پر فائز ہونے کے باوجود چھوٹے بڑے، مرد وعورت، امير وغريب سب کی دعوت قبول فرماتے تھے۔ آپ ﷺ اس کے ذريعہ کمزوروں اور محتاجوں کی غمگساری، فقيروں اور مسکينوں سے ہمدردی اور جاہلوں کی تعليم وتربيت جيسے اہم مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ پس آپ ﷺ اس دعوت دینے والی خاتون کے ہاں تشریف لائے اور اس کا کھانا تناول فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے اس موقع کو غنيمت جانتے ہوئے ان کمزوروں کو، جو بسا اوقات بڑوں کے ساتھ آپ ﷺ کی مبارک مجلسوں ميں نہيں حاضر ہوتے ہيں، تعليم دينا چاہا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان سب کو کھڑے ہونے کا حکم ديا تاکہ انہيں نماز پڑھائيں جس سے انہيں نماز کی کيفيت کا علم ہو جائے۔ انس رضی اللہ عنہ ايک پرانی چٹائی کی طرف متوجہ ہوئے جو کثرت استعمال کی وجہ سے سياہ ہو چکی تھی، اس کو پانی سے دھلا۔ پھر آپ ﷺ انھیں نماز پڑھانے کے لیے اس پر کھڑے ہوئے۔ انس رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ ايک يتيم لڑکا نبی ﷺ کے پيچھے ايک صف ميں کھڑے ہوئے اور مليکہ رضی اللہ عنہا -جو میزبان تھیں- نماز پڑھنے کے لیے انس رضی اللہ عنہ اور يتيم لڑکے کے پيچھے کھڑی ہوئيں۔ آپ ﷺ نے انھیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر آپ ﷺ دعوت وتعليم کا حق ادا کرنے کے بعد واپس آگئے۔ الحمد للہ اللہ کا ہم پر بہت بڑا احسان کہ ہميں آپ ﷺ کے افعال واخلاق میں آپ کا متبع بنايا ہے۔