بریدہ رضی اللہ عنہ خبردے رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی لشکر یا سریہ (فوجی دستہ) کو کفار سے جہاد کرنے کے لیے روانہ فرماتے تو ان کا ايک امیر مقرر فرماتے جو ان کی وحدت و اجتماع کی حفاظت کرتا اور ان کے معاملات کو درست رکھتا۔ پھر اسے اللہ سے ڈرنے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی وصیت فرماتے، اور ان کی اس بات کی طرف رہنمائی کرتے کہ انھیں دشمنوں کے ساتھ کیسا رویہ اپنانا چاہیے، اور انھیں خیانت، عہد شکنی، مثلہ کرنے اور غیر مکلف لوگوں کو قتل کرنے سے اجتناب کرنے کی تلقین کرتے، اور انھیں یہ ہدایت دیتے کہ مشرکين کو سب سے پہلے اسلام کی دعوت پیش کریں. اگر وہ لوگ یہ بات مان لیں تو انہیں مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی ترغیب دیں اور انہیں بتائیں کہ اگر انہوں نے ایسا کرلیا تو ان کے لیے وہی حقوق و واجبات ہوں گے جو پہلے ہجرت کرنے والوں کے ہیں، اگر وہ ہجرت سے انکار کر دیں تو ان کے ساتھ دیہاتی مسلمانوں کا سا معاملہ کیا جائے گا۔ اگر وہ اسلام لانے سے انکار کردیں تو ان سے جزیہ طلب کریں۔ اگر وہ لوگ جزیہ دینے سے بھی انکار کریں تو اللہ کی مدد کے بھروسے ان سے جہاد و قتال کریں۔ اور اگر وہ کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کریں تو انہیں اللہ کا عہد اور اس کے رسول کا عہد و پیمان نہ دیں، بلکہ انہیں اپنا عہد و پیمان دیں، کیوں کہ اپنے عہد کو توڑنا اللہ اور اس کے رسول کے عہد کو توڑنے کے مقابلے میں کم گناہ کا باعث ہے۔ اور جب وہ اپنے لیے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کرنے کا مطالبہ کریں تو وہ کسی حکم کے ذریعہ فیصلہ کرکے اسے اللہ کا حکم نہ بنائیں۔ اس لیے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ ان کے بارے میں اللہ کے حکم کو نہ پہنچ سکیں۔ بلکہ ان کے ساتھ خود اپنے فیصلے اور اجتہاد کے مطابق معاملہ کریں۔