اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے آپ کے حوالے سے کوئی حدیث نقل کی اور وہ جانتا ہو، اسے لگتا ہو یا پھر اس کا غالب گمان ہو کہ اس حدیث کی نسبت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب جھوٹی ہے، تو روایت کرنے والا بھی اس جھوٹ کے آغاز کرنے والے کا شریک ہے۔