اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہوا کو گالی دینے یا اس پر لعنت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ کیوں کہ ہوا اپنے خالق کے حکم سے چلتی ہے۔ کبھی رحمت بن کر آتی ہے اور کبھی عذاب بن کر۔ اس کو گالی دینا دراصل اس کے خالق کو گالی دینا اور اس کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کرنا ہے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ہوا کے خالق یعنی اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف رجوع کر کے اس سے ہوا کی خیر، ہوا کے اندر موجود چيزوں کی خیر اور ہوا جن چیزوں کے ساتھ بھیجی گئی ہے، جیسے بارش وغیرہ، ان کی خیر طلب کرنے اور اللہ ہی سے اس کے شر، اس کے اندر موجود چيزوں کے شر اور اسے جن چیزوں کے ساتھ بھیجا گیا ہے، جیسے فصلوں اور پیڑوں کا نقصان، مویشیوں کو ہلاک اور گھروں کو منہدم کرنا وغیرہ، ان کے شر سے پناہ مانگنے کی جانب رہنمائی کی ہے۔ دراصل اللہ سے یہ چیزیں مانگنا بھی اس کی بندگی کو بروئے عمل لانا ہے۔