اللہ کے نبی ﷺ نے ایک مسلمان کو اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کی ہے اور اس کی کچھ ذمے داریاں اور آداب بیان کیے ہيں۔ مثلا : پہلی وصیت : ایک دوسرے سے حسد نہ کرو کہ ایک دوسرے کی نعمت کے چھن جانے کی تمنا کرنے لگو۔ دوسری وصیت : اگر سامان خریدنے کا ارادہ نہ ہو، تو بیچنے والے کا فائدہ یا خریدنے والے کا نقصان کرنے کے لیے اس کی قیمت نہ بڑھاؤ۔ تیسری وصیت : ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو۔ بغض نام ہے کسی کا برا کرنے کے بارے میں سوچنے کا۔ بغض محبت کی ضد ہے۔ البتہ اللہ کے لیے بغض اس سے مستثنی ہے۔ اللہ کے لیے بغض رکھنا واجب ہے۔ چوتھی وصیت : ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو۔ یعنی ایک دوسرے کے ساتھ ایسا برتاؤ روا نہ رکھو کہ تم اپنے بھائی سے منہ موڑو، اعراض کرو اور قطع تعلق کر لو اور وہ بھی تمھارے ساتھ ایسا ہی کرے۔ پانچویں وصیت : تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی فروخت پر فروخت نہ کرے۔ مثلا جب کوئی شخص کسی سے کچھ خرید چکا ہو، تو اس سے یہ نہ کہو کہ میں اس سے کم قیمت میں اسی طرح کا سامان یا اسی قیمت پر اس سے بہتر سامان دے دوں گا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے ایک جامع وصیت کی اور فرمایا : مذکورہ منع کردہ امور سے ایسے دور رہو، آپس میں اس طرح محبت، نرم روی، شفقت، ملاطفت، نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کے تعاون، صاف دلی اور ہر حال میں خیر خواہی کا معاملہ کرو کہ بھائی کی طرح دکھائی دو۔ اس اخوت کے کچھ تقاضے بھی ہيں، جیسے : اپنے مسلمان بھائی پر ظلم اور دست درازی نہ کرے۔ جب کسی مسلمان بھائی پر ظلم ہو رہا ہو اور آدمی اس کی مدد کر سکتا ہو اور اسے ظلم سے بچا سکتا ہو، تو اسے اکیلا اور بے سہارا نہ چھوڑے۔ اسے حقیر و کم تر نہ جانے اور اسے ہیچ نظر سے نہ دیکھے۔ یہ رویہ دراصل دل میں موجود کبر کی وجہ سے سامنے آتا ہے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے تین بار بتایا کہ تقوی دل کے اندر ہوا کرتا ہے۔ تقوى، جس کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی حسن اخلاق کا پیکر ہو اور اللہ کا خوف اور اس کا دھیان رکھے، اگر وہ کسى کے دل میں جاگزیں جائے تو وہ کسی مسلمان کو حقیر نہیں جان سکتا۔ انسان کے برا اور بد اخلاق ہونے کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر جانے، جو دل میں موجود کبر و غرور کا نتیجہ ہوا کرتا ہے۔ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے اوپر مذکور باتوں پر مہر لگاتے ہوئے فرمایا کہ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون حرام ہے، نہ اسے جان سے مار سکتا ہے، نہ زخمی کر سکتا ہے اور نہ مار پیٹ کر سکتا ہے اور نہ کوئى دوسری جسمانی اذیت دے سکتا ہے۔ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا مال حرام ہے، اسے ناحق لے نہیں سکتا۔ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کی عزت و آبرو بھی حرام ہے، اس کى ذات پر یا اس کے حسب نسب پر زبان درازی نہیں کی جا سکتی۔