علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اجتہاد کرتے ہوئے اسلام سے مرتد ہونے والے کچھ زندیقوں کو آگ میں جلا دیا، جب اس کی اطلاع عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ملی تو انہوں نے ان کے قتل کی تائید کی، لیکن آگ میں جلانے کا انکار کیا۔ اور فرمایا: اگر میں ان کی جگہ ہوتا، تو انہیں آگ سے نہ جلاتا؛ کیونکہ آپ ﷺ نے یہ بات واضح فرمایا کہ آگ کی سزا تو صرف اللہ ہی دیتا ہے، جو آگ کا رب ہے۔ بلکہ انہیں قتل کر دینا ہی کافی ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جو اسلام سے مرتد ہو جائے اور اپنا دین بدل کر کوئی دوسرا دین اختیار کر لے، اسے قتل کر دو۔