يہ حديث مسيئ صلوٰۃ یعنی اپنی نماز کو بگاڑ کر پڑھنے والے کی حديث سے معروف ومشہور ہے اور يہ نماز کے طریقے کو اس کے ارکان وواجبات اور شروط کے ساتھ بیان کرنے کے باب میں شارحین کا اساس اور بنیادی مستند ہے۔ کیوں کہ اس میں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم نے نماز کے ان افعال کو پوری طرح واضح اور بيان فرما ديا ہے جن کو انجام دینا ضروری ہے اور اس حديث ميں نماز سے متعلق جس فعل کو چھوڑ ديا گيا ہے وہ واجب نہیں سمجھا جاتا ہے۔اس حديث کا مفہوم يہ ہے کہ: نبی ﷺ ایک مرتبہ مسجد میں تشريف لے گئے، تو ایک صحابی جن کا نام خلاد بن رافع رضی اللہ عنہ تھا، مسجد ميں آئے اورایسی نماز پڑھی جس ميں مکمل طور پر تمام اقوال وافعال کی ادائيگی نہيں کی پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو سلام کیا۔ آپ ﷺ نےسلام کا جواب ديا پھر ان سے فرمایا کہ لوٹ جاؤ اور نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے۔ چنانچہ وہ لوٹ گئےاور دوبارہ نماز اسی طرح پڑھی جس طرح پہلے پڑھی تھی، پھر نبی ﷺ کے پاس آئے۔ تو آپ ﷺ نےان سے پھر کہا کہ لوٹ جاؤ اور نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے، اسی طرح تین مرتبہ ہوا. تو صحابی رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمايا ہے، میں نے جس طرح نماز پڑھی ہے اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا۔لہٰذا آپ مجھے سکھلا دیجئے۔لہٰذا جب ان کے اندر سيکھنے کا شوق و جذبہ پيدا ہوگيا اور وہ صحيح طريقۂ نماز جاننے کے لیے مشتاق اور بار بار لوٹانے جانے کے بعد طریقۂ نماز کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے تو آپ ﷺ نے ان سےفرمایا (جس کا مفہوم ہے کہ): جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تکبیرۂ تحريمہ کہو، پھر سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بعد جتنا قرآن تم آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ اطمینان سے رکوع کرلو، پھر رکوع سے اٹھو یہاں تک کہ اطمينان کے ساتھ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرلو، پھرسجدے سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔ اور سوائے تکبيرۂ تحريمہ کے اِن اقوال و افعال کی ادائيگی ایسے ہی پوری نماز میں کرو، کيوں کہ تکبيرۂ تحريمہ پہلی رکعت کے علاوہ کسی اور رکعت ميں نہيں کہی جاتی ہے۔ اسی حديث کی دوسری روايات میں نماز کی بعض شرطوں جيسے قبلہ رخ ہونے اور وضو کرنے کا ذکر ہے۔