نبی ﷺ اپنے چند بیٹھے ہوئے صحابہ کے پاس آکر کھڑے ہوئے اور ان سے دریافت فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ تم میں سے بہتر کون ہے اور بدتر کون ہے؟ اس پر صحابہ کرام اپنے اچھے اور برے میں امتیاز کیے جانے کے ڈر اور رسوائی کے خوف سے خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ چنانچہ نبی ﷺ نے ان سے تین مرتبہ سوال دہرایا، تو ان میں سے ایک شخص نے عرض کیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! ہمیں ہمارے اچھے اور برے کے بارے میں بتائیے۔ اس پر اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں یہ بات واضح فرمائی: تم میں بہترین شخص وہ ہے، جس سے خیر، احسان اور بھلائی کی امید اور توقع کی جائے اور جس کے شر کا ڈر نہ ہو، چنانچہ اس کی زیادتی، بد سلوکی اور ظلم وتعدی کا ڈر نہ ہو۔ اور تم میں بدترین شخص وہ ہے، جس سے کسی خیر، احسان اور بھلائی کی نہ تو امید کی جائے، نہ توقع رکھی جائے اور نہ ہی اس کی حرص وطمع ہو اور نہ اس کے شر سے امن ہو، بلکہ اس کی زیادتی، بد سلوکی اور ظلم وتعدی کا خوف لگا رہے۔