حدیث میں سلام کے آداب کا بیان ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب آدمی مجلس میں داخل ہو، تو سلام کرے۔ پھر جب لوٹنے کا ارادہ کرے اور کھڑا ہو کر مجلس سے جدا ہونا چاہے، تو سلام کرے۔ پیارے نبی ﷺ نے اس کا حکم دیا ہے۔ ”پہلا دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں ہے“ یعنی جس طرح داخل ہوتے ہوئے سلام کیا تھا، اسی طرح جدا ہو تو سلام کرے۔ اسی طرح جب آدمی مسجد میں داخل ہو، تو نبی ﷺ پر سلام بھیجے اور جب نکلے، تب بھی نبی ﷺ پر سلام بھیجے۔ جس طرح پہلا سلام اس بات کی خبر دیتا ہے کہ لوگ اس کی موجودگی میں اس کی برائی سے محفوظ ہیں، اسی طرح دوسرا سلام خبر دیتا ہے کہ لوگ اس کی عدمِ موجودگی میں بھی اس کے شر سے محفوط ہیں اور یہ کمالِ شریعت کی وجہ سے ہے کہ اس نے اس طرح کے امور میں ابتدا و انتہا کو یکساں کر دیا اور شریعت جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اللہ حکیم و خبیر کی جانب سے ہے۔