اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ نبی ﷺ نے شوہر کو زمانۂ رضاعت میں بیوی کے قریب جانے اور اس سے ہمبستری کرنے سے منع کردینے کا ارادہ فرمایا کیونکہ عرب میں یہ بات مشہور تھی کہ پیدا ہونے والی اولاد کو اس کی وجہ سے نقصان پہنچتا ہے، پھر آپ ﷺ نے اس ارادہ کو اُس وقت ترک کردیا جب فارس اور روم جیسے بعض لوگوں میں اس کا نقصاندہ نہ ہونا، آپ ﷺ کے نزدیک ثابت ہوگیا۔ پھر آپ ﷺ سے اُس شوہر کے بارے میں دریافت کیا گیا جو (انزال کے وقت) اپنی منی کو بیوی کی شرمگاہ کے باہر خارج کردیتا ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے اس عمل کو ان اہلِ جاہلیت کے عمل سے تشبیہ دی جو اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کیا کرتے تھے اور دونوں اعمال میں فرق یہ ہے کہ پہلا عمل خفیہ طور پر اور دوسرا علی الاعلان کیا جاتا ہے۔